ابنا: روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکہ کو چیلنج کیا ہے کہ وہ شام کی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرے۔صدر پوتن کا کہنا ہے کہ باغیوں کے خلاف شام کی حکومت کی پوزیشن مضبوط ہے اور ایسے موقع پر اس قسم کے حملوں سے باغیوں کو اشتعال دلانا شام کی حکومت کی جانب سے ’سراسر احمقانہ‘ اقدام ہوگا۔اس سے قبل امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا تھا کہ وہ اپنی انٹیلیجنس کی رپورٹوں کے بنیاد پر شام کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔روس کے صدر کا بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی ٹیم سنیچر کو دمشق سے اپنی تحقیقات مکمل کر کے لبنان پہنچ گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق شام سے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کے نکلنے سے امریکہ کی سربراہی میں شام پر حملے کی ایک عملی اور سیاسی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔شام کا بھی کہنا ہے کہ امریکہ کا دعویٰ ’جھوٹا‘ ہے اور دنیا کے سامنے عیاں ہے کہ حملوں کے ذمے دار باغی گروہ ہیں۔روس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر پوتن نے امریکی صدر اوباما سے اپیل کی کہ وہ امن کے نوبل انعام یافتہ ہیں اور شام کے خلاف طاقت کے استعمال سے قبل انہیں ان لوگوں کے بارے میں سوچنا چاہیے جو اس کا نشانہ بنیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ’شام کی حکومت کی فورسز نے کئی علاقوں میں مخالف گروہوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔‘’اس صورتحال میں ان لوگوں کو ایک وجہ فراہم کرنا جو پہلے ہی فوجی کارروائی کے حق میں ہیں سراسر احمقانہ ہوگا‘۔اس سے قبل روس اور چین شام سے متعلق دو قراردادوں کو ویٹور کر چکے ہیں۔ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو برطانوی پارلیمان میں فوجی کارروائی کے خلاف ووٹ دیے جانے پر حیرانگی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا ’ میں سچ کہوں گا کہ میں اس کی بالکل بھی توقع نہیں کر رہا تھا۔‘روس شام کا ایک اہم اتحادی ہے اور اس سے پہلے بھی خبردار کر چکا ہے کہ ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو نظر انداز کر کے کسی قسم کی یکطرفہ فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی‘۔شام کے صدر بشار الاسد کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک ’مغربی جارحیت‘ کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
30 اگست 2013 - 19:30
News ID: 457858
روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکہ کو چیلنج کیا ہے کہ وہ شام کی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرے۔